18 ستمبر 2013 - 19:30
کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں شام کا اہم موقف

شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے دوست ملکوں کو مسلح دہشت گردوں کی طرف سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل المقداد نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: کیمیاوی ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کی تحویل میں دینے سے خطے میں فوجی توازن میں کوئی فرق نہيں آئے گا۔انھوں نے کہا: شام کی قیادت ہر اس تجویز کا خیرمقدم کرتی ہے جو مسائل کے حل کے لئے کسی اہم حکمت عملی پر منتج ہوسکتی ہے اور جارحیت کا سد باب کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم نے ماضی میں کیمیاوی ہتھیار استعمال نہیں کئے اور مستقبل میں بھی یہ ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور ہم نے اپنے دوستوں کو معلومات فراہم کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں تاہم ہم اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انھوں نے کہا: دمشق اپنے موقف سے پسپا نہیں ہوا اور ہمارا اقدام ہماری قوم کے مفاد میں تھا کیونکہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نظام حکومت کا تحفظ کریں۔  فیصل المقداد نے کہا: اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے ہمارے پاس طریقہ کار موجود ہے اور جواب دینے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انھوں نے کہا: ترکی کی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کی غرص سے علاقے کے حالات کو بحران سے دوچار کرنے کے درپے ہے، دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنی سرحدیں دہشت گردوں کے لئے کھول رکھی ہیں اور آل سعود کی حکومت معاندانہ موقف اپنا کر شام کے خلاف ہر قسم کی دہشت گردانہ کاروائی کی حمایت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا: دنیا نے دیکھا کہ ہم کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کے درپے نہیں ہیں اب عالمی برادری کو چاہئے کہ اسرائیل کو مجبور کرے کہ وہ اپنی کیمیاوی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیار تباہ کرے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ جن ممالک نے کیمیاوی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں ہماری رکنیت کا خیر مقدم کیا ہے وہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔ انھوں نے کہا: ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور خاص طور پر رہبر انقلاب اسلامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ فیصل المقداد نے بعض وطن پرست لبنانی راہنماؤں کی طرف سے شام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بعض لوگوں نے لبنان میں ہماری مخالفت کی جن کا ذکر کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی قوم کی حمایت میں بھی ناکام رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭